Chano Ka Lifafa Urdu Column By Javed Ch.

 چنوں کا لفافہ – September 2011

chanon-ka-lifafa-javed-ch

میں نے چنوں کے آخری دانے منہ میں ڈالے، کاغذ کے لفافے کی گیند سی بنائی آگے پیچھے دیکھا، دور کونے میں ’’ڈسٹ بِن‘‘ تھی۔ میں اس کی طرف چل پڑا، قریب پہنچا، کچھ سوچا اور واپس آگیا، لفافے کی گیند اسی طرح میری مٹھی میں دبی تھی۔

مجھ سے کالج اور یونیورسٹیوں کے نوجوان اکثر مطالعہ کرنے کا طریقہ پوچھتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں ہمیں کون کون سی کتابیں پڑھنی چاہئیں، ہمیں علم کہاں سے حاصل کرنا چاہیے اور ہم پڑھی ہوئی چیزوں کو یاد کیسے رکھ سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کے سوال ہمیشہ میری دلچسپی کا موضوع رہے۔ ان سے کہتا ہوں بھائیو اور بہنو، مطالعہ ایک شوق نہیں، ایک عادت، ایک لت ہوتی ہے۔ جس شخص کو یہ لت پڑ جائے اسے پھر اس قسم کے سوالوں کی ضرورت نہیں رہتی۔ آپ مجھ سے یہ پوچھ سکتے ہیں۔ یہ لت پڑتی کیسے ہے؟

ہم مطالعے کو اپنی عادت کیسے بنا سکتے ہیں؟ اس کا صرف ایک طریقہ ہے کہ اپنی زندگی کا ہر اضافی پل، ہر اضافی لمحہ مطالعے کو دے دیں۔ میں نے ایک لمبی جدوجہد کے بعد مطالعے کو عادت بنا لیا ہے۔ میرے سامنے جو چیز آتی ہے میں اسے اٹھاتا ہوں اور پڑھنا شروع کر دیتا ہوں۔ میں ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا ہوں تو پلیٹس الٹی کرکے کمپنی کا نام پڑھنے لگتا ہوں۔ چمچوں، چھریوں اور کانٹوں پر کھدے مارکے اور نشان دیکھنے لگتا ہوں۔ اخبار کا ٹکڑا مل جائے، ٹشوپیپر کا ڈبا ہو، دوا کا بروشر ہو، گولیوں کی ڈبی ہو، کوئی میگزین ہو، سامنے کوئی سائن بورڈ ہو، بیرے کے سینے پر لگی نیم پلیٹ ہو یا عینک کے فریم پر کندہ لفظ ہوں، میں فوراً پڑھنا شروع کر دیتا ہوں۔ میری یہ عادت اس قدر پختہ ہو چکی ہے کہ میں غیرممالک کے سفر کے دوران وہاں کے مقامی اخبارات اور میگزین تک پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

ان کی زبان میرے لیے اجنبی ہوتی ہے لیکن میں تصویروں اور نقشوں کی مدد سے انھیں سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک بار میں نے ہسپانوی زبان کا اخبار خریدا اور ایک دوست کی مدد سے اس کی ساری سرخیاں پڑھ گیا۔ اس مشقت کے دوران میں خود کو ہسپانوی زبان کا ٹھیک ٹھاک ’’عالم‘‘ سمجھنے لگا۔ میں جہاں جاتا ہوں وہاں کوئی نہ کوئی کاغذ تلاش کرلیتا ہوں اور گفتگو کے دوران آنے والے وقفوں میں وہ کاغذ پڑھ جاتا ہوں۔ میری جیب اور میری ڈائری میں بھی اکثر کوئی نہ کوئی تراشا، کوئی نہ کوئی مضمون پڑا ہوتا ہے۔

میں اگر ٹریفک میں پھنس جائوں یا مجھے کسی کا انتظار کرنا پڑے تو میں فوراً وہ تراشا نکالتا ہوں اور اسے پڑھنا شروع کر دیتا ہوں۔ رہی کتابیں اور اخبارات تو ان کے بارے میں میرا خیال ہے دنیا کی کوئی کتاب فضول اور کوئی اخبار بے کار نہیں ہوتا اور جو شخص روزانہ دو گھنٹے مطالعہ نہیں کرتا اسے خود کو پڑھا لکھا نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کی ساری سندیں اور ساری ڈگریاں ضبط ہونی چاہئیں۔ یہ تو تھی مطالعے کی بات۔ اب میں آپ کو ایک اور دلچسپ عادت بتاتا ہوں۔ – 

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

___________________________________________________________________